تحریر: عبدالروف یوسفزئی

پاکستان بننے کا ایک سال پورا ہونے کو تھا پورا ملک پہلی جشن آزادی منانے کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ برصغیر میں اب مسلمانوں کو آزادانہ زندگی گزارنے کے لیے ایک خطہ مل چکا تھا۔جشن آزادی سے دو روز پہلے 12 اگست 1948ء کو اس وقت کے این ڈبلیوایف پی ( خیبر پختونخوا) کے وزیراعلیٰ نے چارسدہ کے گاؤں بابڑہ میں 600 کے لگ بھگ خدائی خدمتگاروں کو قتل کردیا۔اس سانحے میں تقریبا 1200 زخمی ہوئے۔خیبر پختونخوا کے باشعور عوام قیام پاکستان سے قبل بٹوارے کے حق میں نہیں تھے تاہم پاکستان بننے کے بعد پختونوں کے لیڈر باچا خان نے اسمبلی فلور پر اعلان کیا تھا کہ ’اب ہم پاکستان کے باسی ہیں اور یہاں پر رہیں گے۔‘1937ء کے الیکشن میں خدائی خدمتگار تحریک نے کامیابی حاصل کی تھی۔تقسیم سے ایک سال پہلے خیبر پختونخوا اسمبلی کے 50 میں سے 30 ارکان خدائی خدمتگار تحریک کے تھے۔مگر محمد علی جناح کے ایما پر قیوم خان نے کے پی کی منتخب حکومت کا خاتمہ کر دیا۔یہ وہ واقعہ ہے جس پر ہمارے ہاں بات نہیں ہوتی۔اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ’بڑے بڑے‘ سیاسی تاریخ دانوں کے منہ جلتے ہیں۔خاص کر سنٹرل پنجاب کا پڑھا لکھا طبقہ تو انجان بن جاتا ہے۔ ہندستان کے بٹواررے سے متعلق اس وقت کے انگریز گورنر، وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور سیکرٹری فار انڈیا کے مابین جو خط و کتابت ہوئی یہ بہت اہم ہے۔خان عبدالولی خان کی کتاب ’فیکٹس آر فیکٹس‘ جس کا اردو ترجمہ ’حقائق حقائق ہیں‘ کے نام سے کیا گیا میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح انگریز نے روس کے خلاف مذہبی بنیاد پر ایک ریاست کی بنیاد ڈالنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے بعد میں امریکیوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہو گئی۔اس سلسلے میں جولائی 1947ء میں دو امریکی ڈپلومیٹس مسلم لیگ کی قیادت سے بھی ملے تھے۔خدائی خدمتگاروں کی حکومت ختم کرکے چھ ماہ تک اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا گیا کیونکہ اکثریت اب بھی باچا خان کے پاس تھی۔جولائی 1948ء۔ میں خیبر پختونخوا کے گورنر نے ’پبلک سیفٹی آرڈیننس‘ جاری کیا۔اس آرڈیننس کے ذریعے حکومت کو اختیار دیا گیا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے کسی بھی شخص کو غیر معینہ مدت کے لئے حراست میں لے سکتی ہے اور اس کی جائیداد ضبط کرسکتی ہے۔حراست میں لیے گئے شخص کو یہ اختیار بھی حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنی گرفتاری کو کسی عدالت میں چیلنج کرسکے۔اس آرڈیننس کے تحت متعدد لوگوں کو حراست میں لیا گیا اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی گئیں۔ ان میں باچا خان، ڈاکٹر خان صاحب، قاضی عطاء اللہ، ارباب عبدالغفور خان اور دیگر لوگ شامل تھے۔ان رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف صوبائی جرگے نے 12 اگست کو بابڑہ کے مقام پر پرامن مظاہرے کا اعلان کیا۔قیوم خان انتظامیہ نے باچاخان اور خدائی خدمتگاروں کو پاکستان دشمن کے نام سے بدنام کر رکھا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی مخالفین پر غداری کے الزامات کی تاریخ کتنی پرانی ہے۔اس مظاہرے کو روکنے کے لیے قیوم خان نے پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی بھاری نفری بلالی دوسری طرف پارٹی کے ورکرز بھی صوابی، نوشہرہ، مردان اور دیگر جگہوں سے چارسدہ آنا شروع ہوگئے۔ہزاروں لوگ جمع ہو چکے تھے کہ اچانک نہتے کارکنوں پر گولیاں برسنے لگیں۔محمد طاہر کاکا اس وقت مقامی سکول میں پرائمری میں پڑھتے تھے۔انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں مجھے اس وقت کا آنکھوں دیکھا حال سنایا ہے۔’جیسے ہی فائرنگ رکی، میں گھر کی طرف دوڑا۔ ہمارے گھر کا بیرونی دروازہ اور تمام کمروں کے دروازنے کھلے ہوئے تھے۔میں چیخا چلایا مگر کسی کی آواز نہ آئی۔میں سمجھ گیا کہ میرے گھر کے تمام لوگ مارے گئے ہیں۔ میں ایک بار پھر مقتل کی طرف بھاگا وہاں پر ایک قیامت برپا تھی بہنیں، بیویاں اور مائیں خون کے تالاب میں ایک لاش سے دوسری لاش اور ایک زخمی سے دوسرے زخمی کی طرف دوڑ رہی تھیں۔مجھے لگا کربلا کا منظر بھی ایسا ہی ہوگا۔ہر طرف چیخ و پکار تھی۔میں بھی رو رہا تھا۔اچانک میں نے اپنی ماں کو دیکھا اس کے سر پر دوپٹہ نہیں تھا۔مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے اپنے دوپٹے سے زخمیوں کے خون کو بند کرنے لیے پٹیاں بناتی تھیں۔ولی خان کی اہلیہ اور اسفندیار خان کی والدہ تاجو بی بی زخمیوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں۔‘ضلع نوشہرہ کے جے پورکے والد سریندر بھی خدائی خدمتگار تھے۔وہ بھی اس مظاہرے میں شرکت کے لیے گئے تھے مگر کبھی واپس نہیں آئے۔جے بتاتے ہیں کہ ان کے والد کی لاش انہیں واپس نہیں کی گئی۔مقامی لوگ کے مطابق درجنوں کے حساب سے لاشیں دریا برد کر دی گئی تھیں۔جے پور کہتے ہیں کہ شمشان گھاٹ میں والد کی لاش کو نہ جلانے کا دکھ ابھی تک ان کے دل میں ہے۔ستمبر 1948 میں وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان نے صوبائی اسمبلی میں کہا کہ ’میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔ جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تب ان پر فائرنگ کی گئی۔ وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔‘عبدالقیوم خان نے اسمبلی میں موجود اپوزیشن کے چار ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ مارے جاتے تو حکومت کو اس کی کوئی پروا نہ ہوتی۔‘اس قتل عام پر خدائی خدمت گاروں کی جانب سے عدالتی کمیشن کا مطالبہ کیا گیا لیکن نہ تو اس پر کوئی عدالتی کمیشن بنا اور نہ ہی اس واقعے میں ملوث لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا۔ہماری تاریخ کی کتابوں میں قصہ خوانی اور جلیانوالہ باغ کا تذکرہ تو موجود ہیں مگر بابڑہ کےحوالے سے کوئی خاص تفصیل موجود نہیں ہے۔کیوں کہ اولالذکر تو برطانوی مظالم کی داستان گوئی ہے اور بابڑہ کی خونریزی میں پاکستانی ریاست کے کارندے مطلوب ہیں۔اس جرم کو چھپانے کے لیے پشتون قیادت پر غداری کے الزامات لگائے جاتے رہے اور بے خبر پاکستانی اور خاص کر پنجاب کے تعلیم یافتہ لوگ ریاستی بیانیے کو بلا تحقیق دہراتے رہے۔انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ’غدار‘ باچا خان نے برٹش راج کے دور میں 14 سال اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد 17 سال جیل کاٹی۔وہ آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف لڑے اور تقسیم کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے جمہور مخالف ہتھکنڈوں کی مخالفت کے ’جرم‘ میں قید ہوتے رہے۔بابڑہ میں جو کچھ ہوا وہ بھولی ہوئی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ریاست اور اس کے کسی ادارے نے اب تک اس وسیع پیمانے پر قتل عام کی نہ تو مذمت کی اور نہ ہی معافی مانگنے کی کوشش کی ہے۔اس واقعے سے سبق سیکھنے اور نادم ہونے کی بجائے محلاتی سازشوں کو پروان چڑھانے کا سلسلہ جاری رہا جس کا نتیجہ بنگلا دیش کی صورت میں نکلا۔ہم نے سبق نہ سیکھنے کی قسم کھا رکھی ہے۔

Comments